Skip to main content

Posts

کرکٹ کا جنون اور سپر ہیرو مصباح

ع عامر مشتاق جب سے ہوش سنبھالا ہے کرکٹ کا جنون کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ بچپن میں جب ٹی وی عام نہیں ہوا تھا پاکستان کے تمام میچوں کی کمنٹری اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ریڈیو پر سنتے تھے ۔ جب ٹی وی گھر پر آیا تو اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ کرکٹ کھیلنے اور میچ دیکھنے کا جنون اس قدر تھا کہ سکول سے چھٹی کرلیتا تھا لیکن میچ دیکھنے سے چھٹی کرنے سے موت آتی تھی۔ ہر میچ کے بعد والد صاحب اور بھائیوں  کے ساتھ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ضرور بحث ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کہ عشق اور کرکٹ کا نشہ جس کو بھی چڑھ جائے اترنے کا نام نہیں لیتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی پہنچ کر بھی ہمارا کرکٹ کا نشہ ابھی تک برقرار تھا۔ میچ تو باقاعدگی سے دیکھتے تھے تاہم ایک  نمایاں تبدیلی یہ آئی کہ تبصرہ کرنے والے ساتھی بدل گئے۔ دلچسپ تبصروں کے لیئے  والد صاحب اور بھائیوں کی جگہ اب یونیورسٹی کے دوستوں نے لے لی تھی۔ جو لوگ ہاسٹل میں زندگی کے کچھ سال گزار چکے ہیں وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ یونیورسٹی میں کرکٹ پر تبصرہ کس قدر جوشیلے اور غصیلے انداز میں ہوتا ہے۔ میرے باقی ہم وطنو کی طرح ہماری بحث کا موضوع ...
Recent posts

دل سے دھڑکن تک

https://www.facebook.com/aamirmushtaq91 محمد عامر مشتاق       ایف- ایس- سی- پری میڈیکل کے دوسرے طالبعلموں کے والدین کی طرح کاشف کے والدین بھی اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن کاشف کی دلچسپی اردو ادب اور شاعری میں زیادہ تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے اردو کے نصاب میں شامل تمام نظموں اور غزلوں کے ساتھ ساتھ بہت سے مشہور شاعروں کی نظمیں اور غزلیں بھی زبانی یاد تھیں۔  وہ ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا تھا لیکن اپنے ماں باپ کی خوشی کے لیئے دن رات محنت کرتا، کیمسٹری اور بیالوجی جیسے مشکل مضامین کو رٹے لگا کر یاد کرتا۔ اس دن رات کی انتھک محنت کے باوجود بھی اسے ایم- بی- بی- ایس۔ میں داخلہ تو نہ مل پایا لیکن وہ اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی کی کسی بھی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتا تھا۔ وہ بی- اے۔ کرنے کے بعد ایم- اے اردو اور اس کے بعد فلسفے میں پی-ایچ-ڈی کرنے کا خواہشمند تھا۔ یہاں اسے ایک بار پھر اپنی خواہش کو والدین کی خوشیوں کے لیئے قربان کرنا پڑا۔ کاشف کے والد کے ایک دوست زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں پروفیسر تھے اور پروفیسر صاحب نے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو...