Skip to main content

دل سے دھڑکن تک

https://www.facebook.com/aamirmushtaq91
محمد عامر مشتاق
  
 ایف- ایس- سی- پری میڈیکل کے دوسرے طالبعلموں کے والدین کی طرح کاشف کے والدین بھی اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے لیکن کاشف کی دلچسپی اردو ادب اور شاعری میں زیادہ تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے اردو کے نصاب میں شامل تمام نظموں اور غزلوں کے ساتھ ساتھ بہت سے مشہور شاعروں کی نظمیں اور غزلیں بھی زبانی یاد تھیں۔ 
وہ ڈاکٹر نہیں بننا چاہتا تھا لیکن اپنے ماں باپ کی خوشی کے لیئے دن رات محنت کرتا، کیمسٹری اور بیالوجی جیسے مشکل مضامین کو رٹے لگا کر یاد کرتا۔ اس دن رات کی انتھک محنت کے باوجود بھی اسے ایم- بی- بی- ایس۔ میں داخلہ تو نہ مل پایا لیکن وہ اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی وجہ سے اپنی مرضی کی کسی بھی اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لے سکتا تھا۔ وہ بی- اے۔ کرنے کے بعد ایم- اے اردو اور اس کے بعد فلسفے میں پی-ایچ-ڈی کرنے کا خواہشمند تھا۔ یہاں اسے ایک بار پھر اپنی خواہش کو والدین کی خوشیوں کے لیئے قربان کرنا پڑا۔
کاشف کے والد کے ایک دوست زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں پروفیسر تھے اور پروفیسر صاحب نے مشورہ دیا کہ اپنے بیٹے کو ہماری یونیورسٹی بھیج دو تاکہ اس کی بہتر تعلیم و تربیت کرسکیں۔ لہٰزا نہ چاہتے ہوئے بھی کاشف کو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں داخلہ لینا پڑگیا۔ 


ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

کاشف نے فیس بک پر ندا چوہدری کے نام سے آئی ڈی بنائی اور اپنی ہم جماعت عائشہ کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی۔ عائشہ یونیورسٹی سے گھر پہنچی، کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ہوئی تو لیپ ٹاپ کھول کر اسائنمنٹ بنانے میں مصروف ہوگئی۔ وہ لیپ ٹاپ پر کوئی بھی کام کر رہی ہوتی تو فیس بک ہمیشہ لاگ ان رکھتی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنی دوستوں سے گپ شپ بھی کرتی رہتی۔ 
آج بھی عائشہ نے حسبِ معمول فیس بک کا ٹیب کھولا تو ایک سہیلی (اقصیٰ) کا میسج اورتین فرینڈ ریکوئسٹس پر نظر پڑی۔ اقصٰی کو رپلائی کرنے کے بعد اس نے فورًا فرینڈ ریکوئسٹس کو دیکھا۔ دو ریکوئسٹس کسی اجنبی لڑکوں کی طرف سے تھیں جنہیں اس نے فوری ڈیلیٹ کردیا جبکہ تیسری ریکوئسٹ دیکھنے پر پتا چلا کہ یہ ندا نام کی کوئی لڑکی ہے جو اس کی ہی یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ لہٰزا اس نے فورًا ندا کی ریکوئسٹ کو ایکسیپٹ کرلیا۔
ریکوئسٹ ایکسیپٹ کرتے ہی ندا کی طرف سے میسج موصول ہوا۔
ندا: ہائے عاشی۔
عائشہ ایک دم کے لیئے پریشان ہوگئی کہ یہ اجنبی لڑکی میرے نِک نیم سے کیسے واقف ہے؟؟ کیا یہ مجھے پہلے سے جانتی ہے؟؟ 
عائشہ: جی۔ کون ہیں آپ؟ کیا آپ مجھے جانتی ہیں؟
ندا: نہیں۔ در اصل میں نے فیس بک پر نئی آئی ڈی بنائی ہے۔ آپ کا فیس بک اکاؤنٹ دیکھا تو پتا چلا کہ آپ میری یونیورسٹی میں ہی پڑھتی ہیں۔ اس لیئے آپ کو ریکوئسٹ بھیج دی۔ 
عائشہ: اچھا۔
ندا: کیا کررہی ہو؟
عائشہ: کچھ خاص نہیں۔
ندا: کھانا وغیرہ کھا لیا؟
عائشہ: جی۔
ندا: کیا کھایا؟؟
عائشہ: چکن بریانی کوک کے ساتھ۔
ندا: آہاں۔ واہ۔
عائشہ: ہممممممممممم
ندا: کیا میں آپ کو بہترین دوست کہہ سکتی ہوں؟؟
عائشہ: اتنی جلدی؟؟ ابھی تو ہم ایک دوسرے کو ٹھیک طرح سے جانتی بھی نہیں۔
ندا: جان بھی جائیں گی آہستہ آہستہ۔ اب تو بات چیت ہوتی رہے گی نا۔
عائشہ: ہمممممممممم ۔۔۔ اچھا۔ اب میں کچھ کام کرلوں، بات میں بات ہوگی۔ 
اس کے بعد عائشہ کو ندا کی طرف سے کوئی میسج موصول نہیں ہوا۔ 
اگلے دن کالج میں عائشہ نے اپنی سب سے بہترین سہیلی اقصٰی کو ندا کے بارے میں بتایا۔ 
(جاری ہے)

Comments

Popular posts from this blog

کرکٹ کا جنون اور سپر ہیرو مصباح

ع عامر مشتاق جب سے ہوش سنبھالا ہے کرکٹ کا جنون کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ بچپن میں جب ٹی وی عام نہیں ہوا تھا پاکستان کے تمام میچوں کی کمنٹری اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ریڈیو پر سنتے تھے ۔ جب ٹی وی گھر پر آیا تو اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ کرکٹ کھیلنے اور میچ دیکھنے کا جنون اس قدر تھا کہ سکول سے چھٹی کرلیتا تھا لیکن میچ دیکھنے سے چھٹی کرنے سے موت آتی تھی۔ ہر میچ کے بعد والد صاحب اور بھائیوں  کے ساتھ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ضرور بحث ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کہ عشق اور کرکٹ کا نشہ جس کو بھی چڑھ جائے اترنے کا نام نہیں لیتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی پہنچ کر بھی ہمارا کرکٹ کا نشہ ابھی تک برقرار تھا۔ میچ تو باقاعدگی سے دیکھتے تھے تاہم ایک  نمایاں تبدیلی یہ آئی کہ تبصرہ کرنے والے ساتھی بدل گئے۔ دلچسپ تبصروں کے لیئے  والد صاحب اور بھائیوں کی جگہ اب یونیورسٹی کے دوستوں نے لے لی تھی۔ جو لوگ ہاسٹل میں زندگی کے کچھ سال گزار چکے ہیں وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ یونیورسٹی میں کرکٹ پر تبصرہ کس قدر جوشیلے اور غصیلے انداز میں ہوتا ہے۔ میرے باقی ہم وطنو کی طرح ہماری بحث کا موضوع ...