ع عامر مشتاق

جب
سے ہوش سنبھالا ہے کرکٹ کا جنون کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ بچپن میں جب ٹی وی عام نہیں
ہوا تھا پاکستان کے تمام میچوں کی کمنٹری اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر
ریڈیو پر سنتے تھے ۔ جب ٹی وی گھر پر آیا تو اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ کرکٹ
کھیلنے اور میچ دیکھنے کا جنون اس قدر تھا کہ سکول سے چھٹی کرلیتا تھا لیکن میچ
دیکھنے سے چھٹی کرنے سے موت آتی تھی۔ ہر میچ کے بعد والد صاحب اور بھائیوں کے ساتھ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ضرور بحث ہوتی
تھی۔ کہتے ہیں کہ عشق اور کرکٹ کا نشہ جس کو بھی چڑھ جائے اترنے کا نام نہیں لیتا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی پہنچ کر بھی ہمارا کرکٹ کا نشہ ابھی تک برقرار تھا۔
میچ تو باقاعدگی سے دیکھتے تھے تاہم ایک
نمایاں تبدیلی یہ آئی کہ تبصرہ کرنے والے ساتھی بدل گئے۔
دلچسپ تبصروں کے
لیئے والد صاحب اور بھائیوں کی جگہ اب
یونیورسٹی کے دوستوں نے لے لی تھی۔ جو لوگ ہاسٹل میں زندگی کے کچھ سال گزار چکے
ہیں وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ یونیورسٹی میں کرکٹ پر تبصرہ کس قدر جوشیلے اور
غصیلے انداز میں ہوتا ہے۔ میرے باقی ہم وطنو کی طرح ہماری بحث کا موضوع بھی زیادہ تر مصباح الحق اور آفریدی ہی ہوتے تھے ۔
میں
مصباح الحق کو ہیرو کہتا تھا جبکہ میرے زیادہ تر دوست آفریدی (جسے آدھی سے زیادہ
دنیا ہیرو سمجھتی ہے) کے گن گاتے تھے۔ اگر میں یہاں اپنے ایک دوست اظہر تارڑکا
تذکرہ نہ کروں تو شاید زیادتی ہوگی ۔ تارڑ
صاحب آفریدی کے بہت بڑے فین تھے اور
مصباح کے اتنے ہی خلاف تھے جتنا کہ ایک سچا پاکستانی بھارت کے خلاف ہو۔
میرا
ذاتی خیال ہے کہ مصباح الحق کو زیادہ تر
لوگ سست رفتاری سے رنز بنانے کی وجہ سے ناپسند کرتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ
ہے کہ مصباح ٹک ٹک کے نام سے مشہور ہوئے۔ بہرحال میرے کچھ دوست یا چند سو پاکستانی
مصباح الحق کو جتنا بھی ناپسند کریں کرکٹ
کی تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ روشن رہے گا اور کرکٹ کی سمجھ رکھنے والے لوگ اسے
ہیرو کے طور پر یاد کریں گے۔
ان باتوں کا
بھلا کیا فائدہ کیونکہ کسی کے کھیلنے کے
انداز پر تنقید تو تب ہی کی جاسکتی ہے جب کوئی کرکٹ کھیل رہا ہو ۔ مصباح الحق نے
تو ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔لہٰذا ہر طرح کی پسند، ناپسند کو ایک طرف رکھ کر
ہیرو کے کیریئر پرایک نظر ڈالتے ہیں۔
کیریئر
پر ایک نظر
مصباح
الحق کا شمار پاکستان کے چند پڑھے لکھے
کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی سے ایم بی اے
(ایچ آر) کی ڈگری حاصل کی ۔ سال 1998 میں
فرسٹ کلاس ڈیبیو کیاجبکہ انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز 2001 میں آکلینڈ کے مقام پر نیوزی
لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ سے کیا ۔
اس کے ایک
سال کے بعد ون ڈے کرکٹ ٹیم میں جگہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ ابتدائی مقابلوں میں کوئی خاطر
خوہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ویسے بھی محمد یوسف اور انضمام الحق جیسے
بڑے کھلاڑیوں کے ہوتے ہوئے مڈل آرڈر میں جگہ بنانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔
چند
سالوں کے بعد 2007 میں انضمام الحق کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی خلا پر کرنے لیئے
ایک بار پھر مصباح الحق کو آزمانے کے لیے میدان میں اتارا گیا۔
سال
2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم انگلستان کے دورے کے دوران تاریخ کے بدترین بحران
"سپاٹ فکسنگ سکینڈل" میں پھنس گئی۔ کھلاڑیوں کو اس بحران کے نفسیاتی
دباؤ سے نکالنے کے لیئے مصباح الحق نے خوداعتمادی، ثابت قدمی اور مضبوط اعصاب سے
کام لیا اور کچھ ہی عرصہ میں ٹیم کو ایک مرتبہ پھر دنیا کی مظبوط ترین ٹیموں کی صف
میں کھڑا کردیا۔
مئی
2011 میں مصباح الحق کی عمدہ کارکردگی کے تسلسل کو دیکھتے ہوئے انہیں تینوں فارمیٹ
کا کپتان بنا دیا گیا۔ تاہم کچھ ہی عرصہ کے بعد انہوں نے ٹی ٹونٹی کی کپتانی سے
استعفٰی دے دیا جبکہ ٹیسٹ اور ون ڈے کے کپتان برقار رہے۔ انہیں ون ڈے میں 2015 کے
وڑلڈ کپ تک کپتان مقرر کیا گیا۔ مصباح الحق نے 1220 میں ٹٰی
ٹونٹی اور 2015 میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز کے بعد ایک روزہ کرکٹ کو خیر باد کہہ
دیا تھا۔
مصباح
پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین کپتان تو پہلے ہی بن چکے تھے تاہم انہوں نے ویسٹ
انڈیز کے خلاف اپنے الوداعی ٹیسٹ میچ کو یادگار بناتے ہوئے ریکارڈ ساز جیت دلواکر اس پر پختہ مہر ثبت کردی ہے۔

Comments
Post a Comment