ع عامر مشتاق جب سے ہوش سنبھالا ہے کرکٹ کا جنون کبھی بھی کم نہیں ہوا۔ بچپن میں جب ٹی وی عام نہیں ہوا تھا پاکستان کے تمام میچوں کی کمنٹری اپنے والد اور بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ریڈیو پر سنتے تھے ۔ جب ٹی وی گھر پر آیا تو اس وقت میٹرک کا طالب علم تھا۔ کرکٹ کھیلنے اور میچ دیکھنے کا جنون اس قدر تھا کہ سکول سے چھٹی کرلیتا تھا لیکن میچ دیکھنے سے چھٹی کرنے سے موت آتی تھی۔ ہر میچ کے بعد والد صاحب اور بھائیوں کے ساتھ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ضرور بحث ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کہ عشق اور کرکٹ کا نشہ جس کو بھی چڑھ جائے اترنے کا نام نہیں لیتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی پہنچ کر بھی ہمارا کرکٹ کا نشہ ابھی تک برقرار تھا۔ میچ تو باقاعدگی سے دیکھتے تھے تاہم ایک نمایاں تبدیلی یہ آئی کہ تبصرہ کرنے والے ساتھی بدل گئے۔ دلچسپ تبصروں کے لیئے والد صاحب اور بھائیوں کی جگہ اب یونیورسٹی کے دوستوں نے لے لی تھی۔ جو لوگ ہاسٹل میں زندگی کے کچھ سال گزار چکے ہیں وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ یونیورسٹی میں کرکٹ پر تبصرہ کس قدر جوشیلے اور غصیلے انداز میں ہوتا ہے۔ میرے باقی ہم وطنو کی طرح ہماری بحث کا موضوع ...